Light
Dark

کراچی میں یکم اکتوبر سے فیس لیس انفورسمنٹ سسٹم نافذ کرنے کا اعلان

تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو سندھ ہائیکورٹ پہنچے جہاں انہوں نے آئینی بینچز کے سربراہ جسٹس کے کے آغا سے ملاقات کی۔
بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں کہ پولیس ہیوی ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے۔
جاوید اوڈھو نے کہا کہ پولیس کی تربیت متاثرین کی مدد کے لیے کی جاتی ہے، جتنی بڑی گاڑیاں بند کی جاتی ہیں ان ہی سے زیادہ شکایات بھی موصول ہوتی ہیں، قوانین کی خلاف ورزی پر صرف چالان نہیں بلکہ ہیوی گاڑیاں بند کی جاتی ہیں اور مقدمات بھی درج ہوتے ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی کا کہنا تھا کہ یکم اکتوبر سے فیس لیس انفورسمنٹ سسٹم نافذ کیا جا رہا ہے جس کے تحت پولیس کی مداخلت ختم ہو جائے گی اور شواہد کی بنیاد پر ای چالان جاری ہونے سے تنازع کی گنجائش نہیں رہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے مطابق ہیوی گاڑیوں میں حفاظتی جنگلے اور کیمرے نصب کیے جائیں گے اور قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی کی جائے گی۔
جاوید اوڈھو نے کہا کہ بڑے شہر میں ہیوی ٹریفک کے لیے فری ویز ہونی چاہئیں اور پورٹ تک رسائی کے لیے علیحدہ روڈ بننا ضروری ہے، انڈسٹریل زونز میں بھی ہیوی ٹریفک کے لیے مخصوص سڑکوں پر کام ہو رہا ہے تاکہ بھاری گاڑیاں چھوٹی سڑکوں پر نہ آئیں۔
ان کا مزید بتانا تھا کہ پولیس تمام اداروں کے ساتھ مل کر طویل المدتی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے اور پولیس کی کوششوں سے جرائم کی شرح میں کمی آئی ہے۔
ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ سڑکوں کی خرابی بھی حادثات کی ایک بڑی وجہ ہے، اس حوالے سے میئر کراچی کی جانب سے 106 سڑکوں کی مرمت کا اعلان خوش آئند ہے