ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ شام اور لبنان پر اسرائیل کے بڑھتے ہوئے حملے اب ترکیہ کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں، اور انقرہ اپنے برادر ممالک کے خلاف کسی بھی کارروائی پر خاموش نہیں رہے گا۔
روئٹرز کے مطابق پارلیمنٹ میں اپنی جماعت اے کے پارٹی کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے “قتل و غارت کے نیٹ ورک” کی جانب سے شام اور لبنان میں کی جانے والی کارروائیاں ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں جو ترکیہ کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
ترک صدر نے خبردار کیا کہ ترکیہ کے حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا بھرپور اور سخت جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انقرہ کی سلامتی شام اور لبنان کے استحکام سے جڑی ہوئی ہے۔
اردوان نے اسرائیل کی کارروائیوں کو خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس “جارحیت” کو روکا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ نیٹو کے رکن ملک ترکیہ نے اسرائیل کے ایران، غزہ اور لبنان پر حملوں کی مسلسل مخالفت کی ہے اور انہیں خطے میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے۔ ترکیہ اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی معطل کر چکا ہے اور اس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر قانونی اقدامات کا مطالبہ کر رہا ہے۔









