امریکا نے ایران جانے والے بحری جہازوں کی تلاشی لینے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، جس کا مقصد اسلحہ، گولہ بارود اور ممکنہ ایٹمی مواد کی ترسیل کو روکنا بتایا گیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بڑھتے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ ایران تک حساس اور ممنوعہ مواد کی فراہمی کو روکا جا سکے۔
امریکی بحریہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران جانے والے جہازوں کی مکمل تلاشی لی جائے گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ان پر ہتھیار، ویپن سسٹمز، گولہ بارود، ایٹمی مواد یا دیگر حساس اشیاء موجود نہ ہوں۔ اس کے علاوہ خام یا صاف تیل، لوہا، اسٹیل اور ایلومینیم جیسے مواد کی بھی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
ایڈوائزری کے مطابق یہ تلاشی کسی مخصوص مقام تک محدود نہیں ہوگی بلکہ کھلے سمندر میں کہیں بھی لی جا سکتی ہے، جس سے عالمی بحری تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کے اس فیصلے سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور بین الاقوامی قوانین اور سمندری آزادی کے حوالے سے نئی بحث جنم لے سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔









