برطانیہ میں ٹرین میں چاقو کے حملوں نے کھلبلی مچا دی ہے، چاقو کے وار سے 10 افراد زخمی ہو گئے، جن میں سے 9 کی حالت تشویش ناک ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیمبرج شائر کے قصبے ہنٹنگٹن میں ایک ٹرین میں مسافروں پر اچانک چاقو حملے ہوئے، جس میں زخمی ہونے والے نو افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
حملوں کے بعد ڈونکاسٹر سے لندن جانے والی ٹرین کو کیمبرج شائر کے مقام پر روک لیا گیا۔ پولیس نے شبہ میں 2 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ واقعے کے بعد علاقے میں ٹرین سروس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا، لندن نارتھ ایسٹرن ریلوے نے عوام کو اطلاع دی کہ آج اتوار کے روز سروس معطل رہے گی۔
پولیس نے واقعے کو بڑا حادثہ قرار دیا اور کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے ماہر افسران تحقیقات میں معاونت کریں گے۔ وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے بھی واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی پریشان کن ہے۔
کیئر اسٹارمر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔ ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ایک شخص کو خون آلود بازو کے ساتھ ٹرین نیچے کودتے دیکھا جو چلا رہا تھا کہ ’’ان کے پاس چاقو ہے، بھاگو۔‘‘
ریلوے کے منیجنگ ڈائریکٹر نے واقعے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ ہر فرد کی فلاح و بہبود ان کی اوّلین ترجیح رہے گی۔
واقعے کے وقت ٹرین میں موجود عینی شاہدین نے میڈیا کو خوفناک مناظر کی تفصیل بتائی۔ مسافروں نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ چاقو زنی کا واقعہ اس وقت شروع ہوا جب ٹرین پیٹربرو سے روانہ ہوئے تقریباً 10 منٹ ہوئے تھے، اور زخمی افراد کو ٹرین کے اندر دوڑتے ہوئے دیکھا گیا جو ایک چاقو بردار شخص سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ بعد میں ایک شخص کو بڑے سائز کے چاقو کے ساتھ پلیٹ فارم پر دیکھا گیا، جہاں مسلح پولیس اہلکار اس پر اپنے ہتھیار تانے ہوئے تھے۔ عینی شاہد کے مطابق اس شخص کو بعد میں پولیس نے ٹیزر مار کر قابو کر لیا۔









