Light
Dark

طالبان کی پاک افغان سرحد پر فائر بندی کی خلاف ورزی، فورسز کا فوری ردعمل

وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے پاک افغان سرحد پر فائر بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔
رہنما نیوز کے مطابق وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ چمن بارڈر پر افغانستان سے کچھ عناصر نے پاکستانی پوسٹوں پر فائرنگ کی ہے، فورسز نے فوری و موثر ردعمل دیتے ہوئے ذمہ دار طریقے سے جواب دیا۔
پاکستان نے واقعے پر افغان طالبان رجیم کے دعوے کو مسترد کردیا ہے، فائرنگ افغانستان کی جانب سے شروع ہوئی جس کا ذمہ دارانہ جواب دیا گیا ہے۔
وزارت اطلاعات کا کہنا ہے کہ پاکستانی فورسز نے ذمہ دارانہ کارروائی سے صورت حال پر قابو پایا ہے۔
وزارت اطلاعات کے مطابق پاک افغان سرحد پر جنگ بندی بدستور برقرار ہے، پاکستن استنبول میں جاری مذاکرات کے لیے پرعزم ہے۔
پاکستان افغان حکام سے باہمی تعاون کی توقع رکھتا ہے۔

گزشتہ روز وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کا واحد مطالبہ واضح ہے، افغان سرزمین سے ہماری سرزمین پر حملے بند ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ “اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو صورت حال مزید خراب ہو سکتی ہے، ہمارے پاس اختیارات موجود ہیں۔ جیسا ہم امنہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے، اسی انداز میں جواب دینے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔”
وزیرِ دفاع نے واضح کیا تھا کہ پاکستان کا مقصد جامع اور قابلِ عمل یقین دہانیوں کا حصول ہے، اور اگر مذاکرات سے مطلوبہ پیشرفت نہ ہوئی تو حکمتِ عملی کے تمام آپشنز زیرِ غور لائے جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان اس بات کو مانتے ہیں مگر اسے تحریری طور پر دینے سے گریزاں ہیں، بھارت نہیں چاہے گا کہ مذاکرات کامیاب ہوں بلکہ وہ چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی میں الجھا رہے۔
وزیرِ دفاع نے بتایا تھا کہ اب پاکستانی طالبان کی تعداد کم رہ گئی ہے اور اب جو خطرہ ہے وہ “ہائبرڈ طالبان” کا ہے ، جن میں افغان اور پاکستانی تجربہ کار عناصر دونوں شامل ہیں