کراچی : اسپیشل انویسٹیگیشن پولیس کی حراست میں نوجوان مبینہ تشدد سے جاں بحق ہو گیا تاہم غفلت اور لاپروائی برتنے پر سات اہلکاروں کو معطل کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی حراست میں نوجوان عرفان مبینہ طور پر پولیس تشدد کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔
واقعہ میں ملوث تین افسران سمیت سات اہلکاروں کو معطل کر کے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
پولیس نے بتایا کہ :ملزم کی ہلاکت کا واقعہ شام میں پیش آیا، عرفان کو عائشہ منزل کے قریب سے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں ایس آئی یو یونٹ منتقل کیا گیا، عرفان کے انتقال کے بعد پولیس نے خاموشی سے اسے سول اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹرز نے مجسٹریٹ کی نگرانی اور میڈیکل بورڈ کے بغیر پوسٹ مارٹم کرنے سے انکار کر دیا تاہم پوسٹ مارٹم کا فیصلہ مجسٹریٹ کی نگرانی میں کیا جائے گا۔
جاں بحق نوجوان کے ساتھیوں نے بیان میں کہا کہ پولیس نےعائشہ منزل سےہمیں اٹھایا، ہماری آنکھوں پرپٹی باندھ کر تشدد کرتے رہے، پولیس اہلکار ہمیں لاتوں اور ڈنڈوں سے تشدد کا نشانہ بناتےرہے، پولیس اہلکار دو دن تک پٹی باندھ کرمختلف مقامات پرگھماتےرہے، عرفان تشددسے ہلاک ہواتوہماری پٹی کھول دی، عرفان 5 بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔
مقتول کے پڑوسی اظہر ضیا محمد نے اپنے بیان میں کہا احمد پور شرقیہ بہاولپور سے عرفان آیا تھا، گھر والوں نے بتایا کہ بچے صبح گیارہ بجے سے غائب ہیں ، تھانے گئے سی سی ٹی وی فوٹیج نکالی لیکن کوئی سراغ نہیں ملا، پھر علم ہوا کہ سی آئی اے سینٹرمیں بچے موجود ہیں، راستے میں تھے تومعلوم ہوا کہ ایک بچے کی موت ہوگئی ہے۔
اظہرضیا کا بتانا تھا کہ باقی بچے اور لاش اسپتال میں ہے، ہمیں کہا گیا اکیلے آئیں لاش لے جائیں باقی بچوں کوبھی ہم چھوڑ رہے ہیں، مقتول عرفان سیلاب کی تباہ کاریوں کے بعد کراچی رشتے داروں کے پاس آیا تھا ، اس نے سوچا تھا کہ کراچی میں کوئی کام کروں گا گھر تو سیلاب میں تباہ ہوچکا ہے۔
مقتول کے پڑوسی نے مزید کہا کہ عائشہ منزل پر ان لوگوں نےناشتہ کیا ہے اور ٹک ٹاک ویڈیوبنارہےتھے، ویڈیو بنانا کوئی جرم تو نہیں ہے ، 8 اہلکار بچوں کو آنکھوں پر پٹی باندھ کرسارا دن شہرگھماتے رہے، بچے کو تشدد کرکے مار دیا اور لاش اسپتال میں چھوڑ کر چلے گئے، یہ بہت غریب لوگ ہیں انتہائی پسماندہ علاقے سے ان کا تعلق ہے ، ہم چاہتے ہیں اس بچے کے لواحقین کوانصاف ملنا چاہیے۔









