ماسکو(26 اکتوبر 2025): روس نے جدید ترین اور جوہری توانائی سے چلنے والے نئے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
روس نے اپنے جوہری طاقت سے چلنے والے ‘بوریویسٹنک’ کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو ایک ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ہتھیار ہے جس سے متعلق ماسکو کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی دفاعی نظام کو چکما دے سکتا ہے۔
روسی مسلح افواج کے سربراہ ویلری گیراسیموف نے پیوٹن کو بتایا کہ میزائل نے 14,000 کلومیٹر (8,700 میل) کا فاصلہ طے کیا اور 21 اکتوبر کو تجربے کے دوران تقریباً 15 گھنٹے تک فضا میں رہا۔
روس کا کہنا ہے کہ 9M730 بوریویسٹنک کو نیٹو نے SSC-X-9 اسکائی فال کا نام دیا ہے جو موجودہ اور مستقبل کے میزائل دفاعی نظاموں کے لیے “ناقابلِ تسخیر” ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق یہ میزائل ایٹمی توانائی سے چلنے والا کروز میزائل ہے، یعنی اسے روایتی ایندھن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس خصوصیت کے باعث اس کی پرواز کا وقت اور فاصلہ تقریباً لامحدود ہو سکتا ہے۔
اس بریفنگ کے دوران صدر پیوٹن فوجی وردی (کیِموفلاج) میں ملبوس تھے، انہوں نے اعلان کیا کہ ’بورویسٹنک‘ کے تمام اہم تجربات اب مکمل ہو چکے ہیں اور اب اس میزائل کو تعیناتی کے آخری مرحلے کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔
روسی صدر نے کہا کہ ’بورویسٹنک‘ دنیا کا ایک منفرد اور انتہائی طاقتور ہتھیار ہے، جو کسی دوسرے ملک کے پاس موجود نہیں۔ ان کے مطابق “یہ واقعی ایک انوکھا ہتھیار ہے، ایسا جس کی صلاحیتوں کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں









