سہیل آفریدی نے دعوی کیا کہ فوج مسجدوں میں کتے باندھ رہی تھی اور ہم نے منع کیا تو کہا تم لوگ بھی کتے ہو۔ مطلب فوج کا دماغ خراب ہے اور کتے باندھنے چھاؤنی یا پوسٹیں چھوڑ کر مسجد پہنچ گئی تاکہ خارجیوں کا ‘مرتد فوج’ والا دعوی سچ ثابت ہو اور لوگ فوج سے نفرت کریں؟
ہر مسجد کا امام اور نمازی ہوتے ہیں۔ سہیل آفریدی کو چینلج ہے کہ ایک مسجد بتائے جہاں فوج نے کتا باندھا ہو اور وہاں کا امام اور نمازی قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہیں کہ فوج نے یہاں کتے باندھے؟
تمام تر مخالفت کے باؤجود مقامی لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ فوج اپنی ذمہ داری سے بڑھ کر بھی ایسے بہت سے کام کرتی رہتی ہے جن سے وہ قبائیلیوں یا مقامی عوام کے دل جیت سکیں۔ ایسے میں وہ ایسا کوئی کام کیوں کرتی جس پر آگ بھڑک جائے؟ ایسا ہوا ہوتا تو سہیل آفریدی سے پہلے ہزاروں لوگ اسکی گواہی دے چکے ہوتے ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہوتیں۔ یہ الزام تو آج تک خارجیوں نے بھی نہیں لگایا۔
سہیل آفریدی خود کامریڈ ہے اور کالج یونیورسٹی دور میں اسلام کا خوب مذاق اڑایا کرتا۔ جس بےرحمی سے اس نے مسجد کے تقدس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے یہ جھوٹ گھڑا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے اندر کا لادین کامریڈ بدستور ایکٹیو ہے۔ اس گھٹیا انسان کو کم از کم یہ ضرور پتہ ہونا چاہئے کہ ایک جذبے کے تحت اپنی جانیں قربان کرنی والی فوج ان کی طرح لادین اور مرتد نہیں جو اس قسم کی حرکتیں کرے۔ خارجیوں کو رسول اللہ نے کتے قرار دیا ہے انکی مسجدوں میں بم بنانے اور رقص کرنے کی ویڈیوز روز آتی ہیں۔ انکے خلاف لیکن اس منہ سے چوں نہیں نکلتی۔
یہ الزام لگا کر سہیل آفریدی نے فوج کے خلاف حساس علاقوں میں باقاعدہ بغاوت پیدا کرنی کی کوشش کی ہے۔ اس پر فوج کو کیس بنا کر اس سے ثبوت طلب کرنا چاہئے۔ ثبوت نہ دے سکے تو بغاؤت اور سازش کا مقدمہ چلانا چاہئے۔









