انروا چیف فلپ لازارینی کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ شہرمیں بڑے پیمانے پر قتل عام کی تیاری کر رہا ہے،اسرائیل کی جانب سے غزہ شہر میں موجود فلسطینیوں کو دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق انروا چیف فلپ لازارینی نے اسرائیلی اعلان کوخطرناک اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ غزہ سٹی سے نہیں نکل سکتے انہیں نشانہ بنایا جائیگا۔
رپورٹس کے مطابق غزہ سٹی اور شمالی علاقوں میں 2 لاکھ 50 ہزار فلسطینی پھنسے ہوئے ہیں، فلسطینی شہریوں کو دہشت گرد قرار دینا بڑے پیمانے پر قتل عام کی تیاری ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ اسرائیلی منصوبے کے تحت مزید خواتین، بچے اور بزرگ نشانہ بنیں گے، غیر محفوظ اور بے بس شہریوں کو جان سے مارنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔
انروا چیف کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں جاری بین الاقوامی جرائم کو مزید برداشت نہیں کیا جانا چاہیے، اب وقت آگیا ہے فوری عملی اقدامات کیے جائیں۔
دوسری جانب آزاد فلسطینی ریاست کے قیام تک فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے ہتھیار نہ ڈالنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس کے سینئر رہنما محمد نزال کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مطالبہ ہے کہ حماس فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے غیر مسلح ہو جائے لیکن یہ ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔
رپورٹس کے مطابق اُن کا کہنا تھا کہ دنیا کی کسی بھی مزاحمتی تحریک نے آزادی سے قبل اپنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ جنوبی افریقہ، افغانستان، ویتنام، الجزائر اور آئرلینڈ میں کبھی بھی مزاحمتی تحریکوں سے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ آزادی سے پہلے نہیں کیا گیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم اپنے ہتھیار صرف اسی صورت میں چھوڑے گی جب ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست قائم ہوگی۔
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن محمد نزال کا کہنا تھا کہ تنظیم امریکی صدر کے منصوبے پر غور کر رہی ہے اور جلد ہی اپنے مؤقف کا باضابطہ اعلان کردے گی، تاکہ جلد اس جنگ کا خاتمہ ہوسکے۔
حماس بطور فلسطینی مزاحمتی قوت فلسطینی عوام کے مفاد میں فیصلہ کرنے کا حق رکھتی ہے









