رہنما نیوز کے مطابق بے زبان اور معصوم حاملہ بھینس پر بھیانک تشدد کا یہ واقعہ گجرات کی تحصیل جلال پور جٹاں کے گاؤں کھیوا میں پیش آیا، جہاں ملزمان نے حاملہ بھینس بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کی دونوں اگلی ٹانگیں توڑ دیں۔
خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور متعلقہ گاؤں پہنچ کر بھینس کے مالک غلام نبی سے واقعہ کی معلومات لینے کے بعد اس کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جب کہ زخمی بھینس کو علاج کے لیے جانوروں کے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں، جلد حقیقت سامنے آ جائے گی۔
اس حوالے سے ڈی ایس پی آصف بیگ نے کہا ہے، بھینس کو علاج کیلیے گجرات کے جانوروں کے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ بھینس کے مالک کو علاج کے لیے 50 ہزار روپے کی امداد بھی دی گئی ہے۔
پولیس افسر کا کہنا تھا کہ بظاہر ایسا لگتا ہےکہ بھینس اپنے ہی وزن کےباعث منہ کے بل گری اور اگلی ٹانگیں متاثر ہوئیں۔ تاہم ایکسرے کے بعد صورتحال واضح ہوگی۔
اسپتال پہنچا دیاگیا،مالک کوعلاج کے لیےپچاس ہزار روپےامداد دی،بظاہربھینس مالک کی کسی سےدشمنی نہیں ہے، ایکسرے کےبعدصورتحال واضح ہوگی، بظاہرلگتاہےبھینس وزن کےباعث منہ کےبل گرگئی۔
دوسری جانب غلام نبی کا کہنا ہے کہ بھینس ہی اس کے خاندان کی کفالت کا واحد ذریعہ اور کل اثاثہ تھی۔ ملزموں کو گرفتار اور اس کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چند سال میں بے زبان جانوروں پر مظالم کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ حال ہی میں سکھر میں اونٹ کے بچے کی ٹانگ کاٹ دی گئی اور جبڑا بھی توڑ دیا گیا۔









