Light
Dark

اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ :بھاری ٹیکسز کو معاشی تباہی قرار

اسلام آباد (6 نومبر 2025): اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ کے چیئرمین گوہر اعجاز نے بھاری ٹیکسز کو معاشی تباہی قرار دے دیا۔
اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈویلپمنٹ نے بھاری ٹیکسز سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، چیئرمین گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ حکومتی دعوؤں اور حقائق میں کھلا تضاد ہے، حالیہ برسوں میں تنخواہ داروں اور کاروباری افراد سے بھاری ٹیکسز وصول کیے گئے، ٹیکسوں کا بھاری بوجھ معاشی تباہی کا راستہ ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت 2028 میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 18 فی صد کرنا چاہتی ہے، یعنی حکومت ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا چاہتی ہے۔ ایف بی آر جان بوجھ کر ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10 فی صد ظاہر کر رہا ہے، درحقیقت یہ 12 فی صد تک پہنچ چکی ہے، اور ایف بی آر جھوٹے دعوؤں کے ذریعے ٹیکس ادا نہ کرنے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہے۔
5 لاکھ روپے تک ودہولڈنگ ٹیکس ادا کرنے والوں کےلیے اہم خبر
چیئرمین نے کہا کہ حکومت دعویٰ کر رہی ہے کہ ٹیکس اہداف کے لیے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، دراصل حکومت ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید بوجھ ڈالنا چاہتی ہے، حکومت معیشت سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کر رہی ہے، اور کم زور معیشت پر بھاری ٹیکسز کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ حالیہ برسوں میں تنخواہ داروں اور کاروباری افراد سے بھاری ٹیکسز وصول کیے گئے، گزشتہ 3 برسوں میں کاروباری گروپس سے 131 فی صد اضافی ٹیکس وصول کیے گئے، بزنسز سے ٹیکس وصولیاں 2.2 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 5.3 ٹریلین روپے ہو چکی ہیں، جب کہ تنخواہ داروں سے ٹیکس وصولیاں 206 فی صد بڑھ چکی ہیں، اور یہ وصولیاں 188 ارب روپے سے بڑھ کر 580 ارب روپے تک پہنچ گئی ہیں۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ ایف بی آر جان بوجھ کر ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10 فی صد ظاہر کر رہا ہے، درحقیقت ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 12 فی صد تک پہنچ چکی ہے، ایف بی آر پیٹرولیم لیوی کی مد میں کی گئی وصولیوں کو شمار نہیں کر رہا، ٹیکسوں کا بوجھ 10 فی صد سے بڑھ کر 12.2 فی صد ہو چکا ہے۔
3 سال میں پیٹرولیم لیوی وصولیوں میں 760 فی صد اضافہ ہوا ہے، تین سال میں پیٹرولیم وصولیاں 135 سے بڑھ کر 1160 ارب روپے تک پہنچ چکی ہیں، گوہر اعجاز نے کہا کہ گمراہ کن ٹیکس ٹو جی ڈی پی کا دعویٰ عوام سے مزید ٹیکس وصول کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایف بی آر جھوٹے دعوؤں کے ذریعے ٹیکس ادا نہ کرنے والے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ذمہ داری سے بھاگ رہا ہے۔
پاکستان کی جی ڈی پی 4 فی صد سے کم رہی ہے، جب کہ ٹیکس وصولیاں اوسط 20 سے 30 فی صد سالانہ بڑھ رہی ہیں، ٹیکس وصولیوں اور جی ڈی پی میں بہت بڑا تضاد ہے۔ گوہر اعجاز نے کہا کہ ٹیکس وصولیوں اور جی ڈی پی میں تضاد سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔