امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا وینزویلا کے ساحل کے قریب ضبط کیے گئے آئل ٹینکروں میں موجود خام تیل کو یا تو اپنے پاس رکھے گا یا فروخت کر دے گا، جبکہ ضبط شدہ جہازوں کو بھی اپنے کنٹرول میں رکھا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا کے صدر کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں۔ اگر صدر سخت رویہ اپناتے رہے تو اس کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
امریکا نے حالیہ دنوں میں وینزویلا کے خلاف اپنی بحری ناکہ بندی مزید سخت کرتے ہوئے تیل لے جانے والے دو جہاز ضبط کر لیے ہیں، جب کہ ایک تیسرے جہاز کا تعاقب تاحال جاری ہے۔ امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ وینزویلا تیل سے حاصل ہونے والی آمدن کو منشیات کی اسمگلنگ، انسانی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
امریکی مؤقف کے مطابق یہ اقدامات عالمی قوانین کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ خطے میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مالی وسائل سے محروم کیا جا سکے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی حکومت عالمی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر تیل کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہے۔
دوسری جانب وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے اپنے اندرونی معاشی اور سماجی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے امریکا پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور بحری قزاقی میں ملوث ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔
ادھر روس نے وینزویلا کی حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کر دیا ہے۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور وینزویلا کے وزیر خارجہ ایوان گل کے درمیان رابطہ ہوا، جس میں امریکی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ روس کا کہنا ہے کہ یکطرفہ پابندیاں اور طاقت کا استعمال عالمی استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور وینزویلا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے میں سیاسی اور معاشی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے، جب کہ عالمی طاقتوں کی مداخلت اس تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر رہی ہے۔









