واشنگٹن: امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدل السید نے کامیابی حاصل کرلی، جس کے بعد وہ امریکی تاریخ میں سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان رکن بن گئے ہیں۔
امریکا میں مڈٹرم انتخابات کے نتائج سامنے آنے کا سلسلہ جاری ہے، جہاں اہم نشستوں پر ڈیموکریٹک امیدواروں کو برتری حاصل ہے جبکہ ریپبلکن امیدواروں کو مختلف حلقوں میں مقابلے کا سامنا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشی گن میں عبدل السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دے کر سینیٹ کی نشست اپنے نام کرلی۔ انتخابی نتائج کے مطابق عبدل السید نے 51 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے جبکہ مائیک راجرز کے حصے میں 48 فیصد ووٹ آئے۔
کامیابی پر عبدل السید کا ردعمل
انتخابی کامیابی کے بعد اپنے خطاب میں عبدل السید نے کہا کہ میرا نام عبدالرحمان محمد السید ہے۔ ہم نے کہا تھا کہ اگر اللہ کی مرضی ہوئی تو ان شاء اللہ ایسا ہوگا، اور اب ہم نے ان شاء اللہ کو الحمدللہ میں بدل دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ان کے مذہبی عقیدے اور نام کو نشانہ بنایا گیا، تاہم سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات اور مخالفت کے باوجود انہوں نے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔
عبد السید کے مطابق مخالفین نے انہیں شکست دینے کے لیے انتخابی مہم پر بھاری رقم خرچ کی اور ان کے نام کو متنازع بنانے کی کوشش کی۔
اپنی ہی جماعت کی مخالفت کے باوجود کامیابی
بی بی سی کے مطابق ڈیموکریٹک کانگریس کی رکن ہیلی سٹیونز، جو اپنی جماعت کی جانب سے سینیٹ کی نامزدگی حاصل کرنے میں ناکام رہی تھیں، نے ڈیموکریٹ امیدوار عبدل السید کے بجائے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔
تاہم پارٹی کے اندر مخالفت کے باوجود عبدل السید انتخابی میدان میں کامیاب رہے۔
امریکی مڈٹرم انتخابات کے نتائج
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں کے ابتدائی نتائج کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کے 206 جبکہ ریپبلکنز کے 123 امیدواروں کو برتری حاصل ہے۔
435 ارکان پر مشتمل ایوان نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔
دوسری جانب امریکی سینیٹ کے ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کی نشستوں کی تعداد 53 ہوگئی ہے جبکہ ریپبلکنز کے ارکان کی تعداد 41 بتائی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکی سینیٹ 100 ارکان پر مشتمل ہے اور سادہ اکثریت حاصل کرنے کے لیے 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں۔









