Light
Dark

کیا زیادہ ٹماٹر کھانے سے گردے کی پتھری بن سکتی ہے؟ جانئے حقیقت

ٹماٹر اپنی خوشبو، ذائقے اور غذائیت کے باعث دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے۔ یہ پھل چٹنیوں، سالنوں، سلادوں، اور جوسز سمیت کئی پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ لیکن ایک عام سوال جو اکثر ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے: کیا زیادہ ٹماٹر کھانا گردے کی صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے؟

ٹماٹر وٹامن سی، پوٹاشیم، لائکوپین، وٹامن کے، فولٹ اور فائبر جیسے اہم غذائی اجزاء سے بھرپور ہوتے ہیں۔

پوٹاشیم دل کی صحت بہتر بنانے، بلڈ پریشر قابو میں رکھنے اور فالج کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

لائکوپین ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کچھ اقسام کے کینسر سے بچاؤ اور جسم میں سوزش کم کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔

فائبر اور فولٹ ہاضمے کی بہتری اور خون کے سرخ خلیات کی پیداوار کے لیے اہم ہیں۔

اگرچہ ٹماٹر غذائیت سے بھرپور ہیں، مگر ان میں آکسیلیٹس بھی پائے جاتے ہیں — یہ ایسے قدرتی مرکبات ہیں جو کیلشیم کے ساتھ مل کر گردے میں کیلشیم آکسیلیٹ پتھری بنانے کا سبب بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر کچے ٹماٹر یا ان کے بیجوں کا زیادہ استعمال اس خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

گردے کی پتھری یا گردے کے مرض میں مبتلا افراد کے لیے آکسیلیٹ سے بھرپور غذا سے پرہیز کرنا ضروری ہوتا ہے۔دائمی گردے کی بیماریکے مریض اضافی پوٹاشیم کو مؤثر طریقے سے خارج نہیں کر پاتے، اس لیے ان کے لیے ٹماٹر کا زیادہ استعمال ہائیپر کلیمیا خون میں پوٹاشیم کی زیادتی کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے

محققین نے گردے کی پتھری یا بیماری کے شکار افراد کو ٹماٹروں کی مقدار میں اعتدال برتنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ صحت مند بالغ افراد کے لیے معمولی مقدار میں ٹماٹر کھانا محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

صحت مند افراد کے لیے روزمرہ غذا میں مناسب مقدار میں ٹماٹر کھانا محفوظ اور فائدہ مند ہے۔ تاہم، اگر آپ کو گردے سے متعلق کوئی بیماری لاحق ہے یا گردے کی پتھری کا سابقہ رہ چکا ہے، تو بہتر ہے کہ ٹماٹر کے استعمال میں احتیاط کریں اور ماہر غذائیت یا ڈاکٹر سے مشورہ ضرور لیں۔