واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے مطابق سابق امریکی انتظامیہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی خواہش کے باوجود خطے میں عسکری سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق بعض ایرانی جوہری تنصیبات کے قریب حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جن میں مبینہ طور پر امریکہ اور اسرائیل کے کردار کے حوالے سے بھی دعوے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم کے حکام کا کہنا ہے کہ حملوں کے باوجود ملک کی جوہری تنصیبات کو کوئی نمایاں نقصان نہیں پہنچا اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ ایرانی حکام نے اس حوالے سے سکیورٹی اقدامات مزید سخت کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی اور اسرائیلی حکام کی جانب سے ان مخصوص دعوؤں پر فوری اور واضح تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت مزید سفارتی یا عسکری تناؤ کو جنم دے سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر واقعی مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تو زمینی سطح پر اس نوعیت کے واقعات ان کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔









