واشنگٹن: اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینون نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو ایرانی قیادت کے ٹھکانوں اور ان کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات حاصل ہیں۔
ڈینی ڈینون نے امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران دوبارہ اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو اسرائیل کسی دوسرے ملک کا انتظار کیے بغیر جوابی کارروائی کرے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف سخت ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل اور مراکش نے اپنے سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے سفارتی مشنز کو سفارتخانوں کی سطح پر اپ گریڈ کرنے اور دونوں ملکوں میں سفیر تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ پیش رفت 2020 میں امریکی ثالثی سے شروع ہونے والے ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل اور عرب و مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں توسیع کے سلسلے کی کڑی ہے۔ مراکش کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور بحرین بھی اس عمل میں شامل رہے ہیں، جبکہ سوڈان نے بھی 2020 میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا اعلان کیا تھا۔









