خبر رساں ادارے مہر کے مطابق ایران کی فوج نے آبنائے ہرمز کو تمام بحری جہازوں، بشمول تیل بردار ٹینکرز اور تجارتی جہازوں، کے لیے مکمل طور پر بند کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کو آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے اور اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایرانی سرکاری میڈیا کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ایرانی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی دو تجارتی کشتیوں کو نشانہ بنایا ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے اور بحری راستہ بند نہیں کیا گیا۔
ایرانی اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا کے ساتھ کشیدگی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں فی بیرل دو ڈالر سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔









