فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل کی جانب سے دیے گئے 60 روز میں غیر مسلح ہونے کے الٹی میٹم کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس کے ایک سینئر رہنما کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے کسی باضابطہ مطالبے کا علم نہیں اور یہ بیانات جاری مذاکرات کی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔
حماس کا مؤقف ہے کہ جب تک غزہ پر اسرائیلی قبضہ برقرار ہے، اسلحہ ترک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مزاحمت فلسطینی عوام کے دفاع کا حق ہے اور اسے کسی دباؤ کے تحت ختم نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ یہ الٹی میٹم اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایک قریبی معاون کی جانب سے جاری کیا گیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ حماس 60 روز کے اندر اپنے ہتھیار ڈال دے۔ تاہم حماس نے اس مطالبے کو غیر حقیقت پسندانہ اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔









