Light
Dark

ہمارے 78سال ہماری صورتحال بھی عجیب ہے

تحریر: ندیم اختر

14 اگست 1947 سے قبل قائد اعظم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ جو مسلم اکثریتی صوبے پاکستان تخلیق کرنے والے ہیں ان میں فوری طور پر کسی بنیادی آئینی خاکے پر اتفاق نہیں ہو سکے گا لہٰذا اس اہم ترین معاملے کو مستقبل پر چھوڑ دیا گیا۔ اس فیصلے کے دو خطرناک نتائج سامنے آئے۔ اول یہ کہ بنیادی آئینی خاکے کی عدم موجودگی کے باعث آئین سازی کا عمل فوراً شروع نہ ہو سکا اور دوم یہ کہ مرکز اور صوبوں کے درمیان امکانی تنازعات کے حل کے لیے رہنما اصول بھی موجود نہیں تھے۔ اس طرح ایک سیاسی خلا پیدا ہو گیا جسے قائد اعظم نے بیورو کریسی کی مدد سے پورا کرنا چاہا۔ بیورو کریسی نے اس موقع کا فائدہ اٹھایا اور طاقت ور مرکز کے نظریے کی آڑ میں پورے ملک کے انتظامی اور سیاسی نظام کا کنٹرول خود سنبھال لیا۔ اسی کے مشورے پر 22 اگست 1948 کو شمال مشرقی سرحدی صوبے (موجودہ کے پی) کی صوبائی اسمبلی تحلیل کی گئی۔ یہ اقدام پاکستان کی بنیاد رکھنے والی پانچ اکائیوں کے لیے ایک کھلا پیغام تھا کہ نو تخلیق ملک پر ایک مضبوط مرکز کی گرفت ہو گی اور اسے آہنی ہاتھوں سے چلایا جائے گا۔

تخلیق پاکستان کے بعد ، تاریخ کے اس ثابت شدہ کلیے سے انحراف کیا گیا کہ کثیر قومی اور کثیر لسانی ریاست کی بقاء اور استحکام کے لیے وفاقی پارلیمانی جمہوری نظام ناگزیر ہوتا ہے۔ اس کلیے سے انحراف کے باعث ملک میں فوراً ہی سیاسی بحران پیدا ہو گیا اور دو متضاد سیاسی نظریات کے درمیان شدید محاذ آرائی شروع ہو گئی۔ ایک نظریہ یہ تھا کہ مکمل صوبائی خود مختاری سے وفاقی اکائیوں اور مرکز کے درمیان یکجہتی بڑھے گی اور وفاق مضبوط ہو گا۔ دوسرا نکتہ نظر تھا کہ ایک انتہائی طاقت ور مرکز پاکستان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کے لازمی ہے۔

مشرقی پاکستان چونکہ سیاسی شعور کے اعتبار سے مغربی پاکستان سے کافی آگے تھا لہٰذا اس نے غیرمعمولی طاقت ور مرکز کے نظریے کی سخت مزاحمت کی۔ 1948 میں اردو کے ساتھ بنگلہ کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا جسے سختی سے مسترد کر دیا گیا۔ مشرقی پاکستان میں اس مطالبے کے حق میں بھرپور تحریک شروع ہوئی جو 21 فروری 1952 کو اس وقت عروج پر پہنچی جب پولیس نے پرامن احتجاج کرنے والوں پر گولی برسا کر درجنوں نوجوانوں کو ہلاک کر دیا۔ حکومت کو بالآخر 1956 میں بنگالی کو قومی زبان تسلیم کرنا پڑا لیکن اس وقت تک پلوں کے نیچے سے کافی پانی گزر چکا تھا۔ 1956 میں مساوی (Parity) نمائندگی کا قانون مسلط کیا گیا۔ اس وقت مشرقی پاکستان کی آبادی 56 اور مغربی پاکستان کی آبادی 44 فیصد تھی۔ مشرقی پاکستان کو پارلیمنٹ میں مغربی پاکستان کے مقابلے میں زیادہ نمائندگی مل سکتی تھی جسے اس قانون کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ ایوان میں دونوں صوبوں کے لیے مساوی نشستیں ( 150 + 150 ) مختص کر دی گئیں۔ یہ ان بنگالی بولنے والے پاکستانیوں کی حب الوطنی پر شک کے مترادف تھا جو تحریک پاکستان کا ہراول دستہ تھے اور جن کے بغیر پاکستان کی تخلیق ممکن نہیں تھی۔

فیصلہ ساز قوتوں نے مشرقی پاکستان کو ’زیر‘ کرنے کے ساتھ اپنی توجہ مغربی پاکستان کے چھوٹے صوبوں پر بھی مرکوز رکھی۔ انہوں نے مغربی پاکستان میں موجود صوبوں اور ریاستوں کو مدغم کر کے ایک اکائی (ون یونٹ) میں تبدیل کیا اور لاہور اس کا دارالحکومت بنا دیا۔ اس اقدام سے مغربی پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں زبردست غم و غصہ پھیل گیا۔ یہ صوبے، پاکستان کے قیام سے قبل بھی موجود تھے اور ان کی قومی، ثقافتی اور سیاسی شناخت ایک تاریخی حقیقت تھی۔ پاکستان بنانے والے ہندوستان کے مسلم اکثریتی صوبوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نئے وطن میں وہ اپنی تاریخی شناخت سے محروم کر دیے جائیں گے۔ یہی وجہ تھی انہوں نے ون یونٹ کے قیام کی زبردست مزاحمت کی۔ سندھ، صوبہ سرحد اور بلوچستان میں ون یونٹ کے خلاف ابھرنے والی سیاسی اور قوم پرست تحریکوں کو بھرپور عوامی پذیرائی ملی، شاندار مزاحمتی ادب تخلیق ہوا، انقلابی کہانیاں، ناول، گیت، ترانے لکھے اور گائے گئے، ون یونٹ کے خلاف جاری جدوجہد، ایوب آمریت کے خلاف چلنے والی جمہوری تحریک کا فعال حصہ بن گئی۔ سیاسی کارکنوں نے قومی و جمہوری حقوق کے لیے قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں، بدترین اذیت اور تشدد سہا، جمہوریت کی بحالی اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

طویل اور صبر آزما جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی، جولائی 1970 میں ون یونٹ ٹوٹا، صوبے بحال ہوئے اور آزادی کے 25 سال بعد ملک میں پہلی بار بالغ حق رائے دہی کی بنیاد پر عام انتخابات کرائے گئے۔ 1970 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کو اکثریت حاصل ہوئی لیکن اقتدار منتخب پارلیمنٹ کے حوالے نہیں کیا گیا۔ عوام کے مینڈیٹ کو مسترد کرنے کے خلاف مشرقی پاکستان میں شدید ردعمل ہوا جسے دبانے کے لیے بدترین طاقت استعمال کی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 1971 میں بنگلہ دیش وجود میں آ گیا اور اکثریت نے اقلیت سے آزادی حاصل کر کے تاریخ میں ایک نئی مثال رقم کر دی۔

1973 میں باقی ماندہ پاکستان میں ایک آئین بنا جسے صرف چار سال بعد جنرل ضیا الحق نے 4 جولائی 1977 کو معطل کر دیا، چیف ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے آئین میں 90 سے زیادہ ترامیم کیں اور آئین کے خالق وزیر اعظم کو 4 اپریل 1979 کو تختہ دار پر لٹکا دیا۔ جنرل ضیا الحق نے 17 اگست 1988 کو دنیا سے کوچ کیا جس کے بعد کمزور سول حکم رانی کا دس سالہ وقفہ آیا۔ 1999 میں جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر شب خوں مارا، آئین معطل کیا اور عدلیہ کی ’اجازت‘ سے آئین میں 37 من مانی ترامیم کیں۔ وہ 2007 میں اقتدار سے رخصت ہونے پر مجبور ہوئے۔ سیاسی جماعتوں نے مئی 2006 کو 36 نکاتی میثاق جمہوریت پر دستخط کر کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی کوشش کی لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو شہید کر دیا گیا، 2008 کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب ہوئی، یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم منتخب ہوئے اور عدالت سے معزول کرا دیے گئے، ان کی جگہ راجہ پرویز اشرف نے ان کا منصب سنبھالا اور ملک میں 70 سال بعد کسی منتخب پارلیمنٹ نے پہلی بار اپنی آئینی میعاد مکمل کی۔ 2010 میں پارلیمنٹ نے تاریخ ساز 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے آمرانہ دور کے کئی اقدامات ختم کیے اور صوبوں کو مثالی مالی و انتظامی اختیارات دیے۔ 2013 میں نواز شریف وزیر اعظم بنے، انہیں 2017 میں رخصت کرا دیا گیا اور شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بن گئے۔ 2018 میں عمران خان وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے لیکن 10 اپریل 2022 کو ان کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہو گیا۔ ملک کا کوئی وزیر اعظم کی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا لیکن اس کے برعکس 4 فوجی آمروں نے 38 سال ملک پر براہ راست حکمرانی کی، آئین کو بے توقیر اور جمہوری اداروں کو تباہ کیا۔ بار بار کی فوجی مداخلتوں کے باعث 19 حکومتوں کا سول دورمحض 41 سال تک محدود رہا جس دوران 24 وزیر اعظم اقتدار میں آئے اور 22 نکال دیے گئے۔

جس سیاسی بحران کی ابتدا 1947 کو ہوئی وہ نومبر 2025 کو آئین میں کی گئی 27 ویں ترمیم کے بعد بھی ختم نہیں ہوا جس کا واضح ثبوت بلاول بھٹو زرداری کا پارلیمنٹ میں یہ واشگاف اعلان ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت 18 ویں ترمیم ختم نہیں کر سکتی۔

تاریخ نے بار بار یہ ثابت کیا ہے کہ عوام ناخواندہ ہوسکتے ہیں لیکن وہ جاہل نہیں ہوتے۔ وہ ہزاروں برس کے اجتماعی تجربے سے کشید ایک ناقابل شکست دانش کے مالک ہیں۔ ؔ لہٰذا ان کی رائے اور منتخب کردہ پارلیمنٹ سے نہیں ٹکرانا چاہیے۔ جن ملکوں نے عوام کی اجتماعی دانش، امنگوں اور جمہوری فیصلوں کا احترام کیا وہ آج بھی مثالی ترقی کر رہے ہیں۔ جو ایسا نہ کر سکے ان میں سے کئی بحرانوں اور خانہ جنگیوں کے باعث شکست و ریخت تک سے دوچار ہو چکے ہیں۔

ہم 78 سال سے مسلسل بحرانوں کا شکار ہیں لیکن ہماری صورت حال بھی عجب ہے، نہ ہم تاریخ اور نہ ہی اپنے تجربے سے کچھ سیکھتے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مضمون نگار کے اپنے خیالات اور رائے پر مبنی ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔