Light
Dark

حماس کی امدادی ٹرکوں کی مبیّنہ “لوٹ مار” کے دعووں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت

اسلامی تحریکِ مزاحمت (حماس) نے امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے امدادی ٹرکوں کی مبیّنہ “لوٹ مار” کے دعووں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
ترجمان حماس کے مطابق یہ الزامات بالکل بے بنیاد، من گھڑت اور جھوٹے ہیں، جو انسانی ہمدردی پر مبنی امداد میں مزید کمی کا جواز پیدا کرنے اور بین الاقوامی برادری کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے گھڑے گئے ہیں ، خاص طور پر غزہ کے شہریوں پر مسلط محاصرے اور بھوک کے خلاف کچھ نہ کرنے کی روش چھپانے کے لیے۔
حماس نے واضح کیا کہ غزہ میں پولیس اور سیکیورٹی ادارے اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے ہزار سے زائد شہداء اور سیںکڑوں زخمی پیش کر چکے ہیں، جو امدادی قافلوں کی حفاظت اور مستحقین تک مدد پہنچانے میں مصروف تھے۔
قابض فوج کے انخلا کے فوراً بعد ساری بدنظمی اور لوٹ مار ختم ہوگئی، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ فتنہ انگیزی اور افراتفری خود قابض افواج کے زیرِ نگرانی پیدا کی گئی تھی۔
تحریکِ حماس نے مزید کہا کہ کسی بھی بین الاقوامی یا مقامی ادارے نے، حتیٰ کہ کسی امدادی قافلے کے ڈرائیور نے بھی، اس نوعیت کی کسی “لوٹ مار” کی شکایت درج نہیں کرائی۔
یہ بات ثابت کرتی ہے کہ امریکی کمانڈ نے جس منظر پر اپنی بات قائم کی ہے وہ جعلی اور مصنوعی ہے — جس کا مقصد غزہ کے محاصرے کو برقرار رکھنا اور امداد میں کمی کے فیصلے کو درست ثابت کرنا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اگر امریکی ڈرونز نے کسی “مبینہ ٹرک” کا منظر دیکھا ہے، تو انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے تھا کہ جنگ بندی کے آغاز سے اب تک 254 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 91٪ عام شہری ہیں — 105 بچے، 37 خواتین اور 9 بزرگ شامل ہیں۔
افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں 199 بچے، 136 خواتین اور 32 بزرگ ہیں۔
امریکی ڈرونز نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ اسرائیلی فوج روزانہ خط اصفر کے پار داخل ہو کر تقریباً 35 مربع کلومیٹر (غزہ کے رقبے کا 10٪) پر قابض ہے، اور روزانہ شہریوں کے گھروں کو منظم طریقے سے تباہ کر رہی ہے۔