Light
Dark

غزہ واپس جانے والے فلسطینیوں کو کیا شدید خطرات لاحق؟

اسرائیل میں جنگ بندی اور غزہ امن معاہدے کے بعد واپس آنے والے فلسطینیوں کو لاحق شدید خطرات سے این جی او نے آگاہ کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی امن معاہدے اور ثالثی ممالک کی مدد سے اسرائیل اور حماس میں دو سال سے جاری جنگ اب ختم ہو گئی ہے اور غزہ امن معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ جنگ بندی اور امن معاہدے کے بعد کھنڈر بنے غزہ میں فلسطینیوں کی واپسی شروع ہو گئی ہے۔ تاہم یہ واپسی ان کے لیے خطرناک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق این جی او ہینڈی کیپ انٹرنیشنل نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں نہ پھٹنے والے بموں نے ان لوگوں کے لیے “بہت زیادہ” خطرات پیدا کیے ہیں جو جنگ بندی کے بعد گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
ہینڈی کیپ انٹرنیشنل جو بارودی سرنگوں کی صفائی اور ان کے متأثرین کی مدد میں مہارت رکھتی ہے۔ اس تنظیم نے بم ناکارہ بنانے والے آلات کے داخلے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اب بھی خطرات زیادہ ہیں، کیونکہ یہاں 70 ہزار ٹن سے زائد بارود گرایا گیا، جس میں بہت سارا دھماکا خیز مواد پھٹ نہ سکا۔
رواں ماہ جنوری میں اقوامِ متحدہ کی مائن ایکشن سروس (یو این ایم اے ایس) نے بھی اندازہ لگایا تھا کہ غزہ پر داغے گئے گولہ بارود میں سے “پانچ سے 10 فیصد” نہیں پھٹ سکا۔
بم ناکارہ بنانے والے برطانیہ کے سابق فوجی اور غزہ میں ہینڈی کیپ انٹرنیشنل کے کارکن نکولس اور نے مارچ میں اے ایف پی کو بتایا تھا کہ وہ غزہ میں بم ناکارہ بنانے کی اجازت حاصل کرنے سے قاصر تھے کیونکہ اسرائیلی فضائی نگرانی انھیں غلطی سے مزاحمت کار سمجھ سکتی تھی جو بغیر پھٹنے والے ہتھیاروں کو دوبارہ استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔
اگرچہ اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے کارکنان “دھماکہ خیز مواد کے خطرات کے لیے اہم سڑکوں کا جائزہ لیں گے” لیکن یو این ایم اے ایس نے کہا ہے کہ اس کے پاس “زمین پر بکتر بند گاڑیوں کی ایک محدود تعداد ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ ہر روز صرف ایک مخصوص تعداد میں ہی دھماکا خیز خطرات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔”
غزہ کیلیے 50 ارب ڈالر درکار، آئی ایم ایف تعاون کرنے کو تیار