اسلام آباد (11 اکتوبر 2025): وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کیلیے امریکا روانہ ہوگئے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پلینری اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے، وہ آئی ایف سی اور ایم آئی جی اے کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔
محمد اورنگزیب کی عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات ہوگی جبکہ وہ اجے بنگا کی خصوصی دعوت پر منتخب ممالک کے وزرائے خزانہ کو دیے گئے عشائیہ میں شریک ہوں گے۔
وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹلینا جارجیوا سے بھی ملاقات ہوگی، وہ چین، برطانیہ، سعودی عرب، ترکیہ اور آذربائیجان کے ہم منصبوں سے بھی ملاقات کریں گے۔
وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ حکام اور امریکی کانگرس کی فنانشل سروسز کمیٹی کے چیئرمین سے بھی ان کی ملاقاتیں شیڈول ہیں، امریکی اسٹیٹ، ٹریژری ڈیپارٹمنٹس اور ڈی ایف سی حکام سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا
9 اکتوبر کو پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ نہ ہو سکا تھا تاہم فریقین نے مزید پالیسی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات مکمل ہوگئے تھے جس کا اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی شرائط پر عملدرآمد کو مضبوط قرار دے دیا اور پاکستانی معیشت میں استحکام کی کوششوں کو سراہا جبکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور سیلاب متاثرین کی مدد پر بھی زور دیا گیا تھا۔
اعلامیے میں کہنا تھا کہ مہنگائی کو مقررہ ہدف کے دائرے میں رکھنے کیلیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی، اس کے علاوہ توانائی شعبے کی بحالی، ریگولر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور اصلاحات پر بھی اتفاق کیا گیا۔
آئی ایم ایف مشن نے مذاکرات کے دوران سرکاری اداروں کے حجم میں کمی، شفافیت میں بہتری، کاروباری ماحول اور کموڈیٹی مارکیٹس کی آزادی سے متعلق اقدامات پر گفتگو کی تھی۔
اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ موجودہ 37 ماہ کے قرض پروگرام اور 28 ماہ کے کلائمیٹ رزیلینس پروگرام پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔









