امریکا نے اسرائیل کی مسلح افواج کے لیے 6 بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کرنے کی حامی بھرلی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جنرل کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اسرائیل کو 6 بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کرے گی جس کے لیے کانگریس سے منظوری لی جائے گی۔
امریکی اخبار کے مطابق اسرائیل کو فروخت کیے جانے والے اسلحے میں 30 اپاچی گن شپ ہیلی کاپٹر اور 3 ہزار 250 فوجی گاڑیاں شامل ہوں گی۔
رپورٹس کے مطابق 30 روز قبل ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے کانگریس میں اسرائیل کو مجوزہ اسلحہ فروخت تجویز پیش کی تھی۔
کانگریس کی منظوری ملنے کے بعد اسرائیل کو یہ جنگی سامان 3 سال کی مدت کے دوران فراہم کیا جائے گا۔
دوسری جانب اسرائیل نے امریکا کو واضح طور پر بتا دیا ہے کہ غزہ میں کسی معاہدے کا امکان نہیں ہے، اور یہ کہ وہ کارروائی میں توسیع کریں گے۔
العربیہ کے مطابق ایک طرف جب امریکا قطر کو ثالثی کے کردار میں واپس لانے اور بحران حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، دوسری طرف اسرائیل نے امریکا کو باضابطہ اطلاع دی ہے کہ وہ غزہ میں اپنی کارروائیاں عالمی تنقید کے باوجود جاری رکھے گا، اور کسی معاہدے کا امکان نہیں ہے۔
اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حماس کو نئی دھمکیاں دی ہیں، کاٹز نے کہا کہ اگر حماس نے اسرائیل کی شرائط نہ مانیں تو غزہ میں مزید شدت اختیار کرنے والے حملے کیے جائیں گے، اور اسرائیل اپنی دھمکی پر عمل کرے گا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے نے بتایا کہ تل ابیب نے واشنگٹن کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ تمام مذمتوں کے باوجود غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی کو مزید گہرا کرنے جا رہا ہے۔









