قطری وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کو ردعمل بین الاقوامی قانون کے دائرے میں دیا جائے گا، اسرائیل کے حملے کے برعکس ہمارا جواب قانونی ہو گا، علاقائی رہنما دوحہ اجلاس میں مشترکہ حکمت عملی طےکریں گے۔
قطر میں 15ستمبر کو ہونے والے عرب اسلامی سربراہی اجلاس کی تیاریاں جاری ہیں جب کہ 14 ستمبر کو وزرائے خارجہ اجلاس بھی ہو گا جس میں آئندہ لائحہ عمل اور حکمت عملی طے ہو گی۔
قطری وزارت خارجہ نے بتایا کہ سربراہی اجلاس میں اسرائیلی حملے اور نتائج پر غور کیا جائےگا، خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ دوحہ پر اسرائیلی حملے کے بعد قطر نےعالمی سطح پر سفارتی دباؤ بڑھایا ہے۔
دریں اثنا پاکستان نے دوحہ میں حماس پر ہونے والے اسرائیلی حملے کو قطر کی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے برادر ملک کی قیادت اور عوام سے اظہار یکجہتی کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قطر پر حملوں کی مذمت کی ہے تاہم اعلامیہ میں اسرائیل کا ذکر نہیں کیا گیا۔
سلامتی کونسل کے تمام 15 رکن ممالک بشمول امریکا نے اعلامیے پر اتفاق کیا لیکن اس میں کہیں بھی اسرائیل کا نام نہیں لیا گیا۔ قطر پر حملوں کی مذمت کا اعلامیہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے تیار کیا گیا۔
اعلامیہ کے مطابق خطے میں کشیدگی کم کرنےکی ضرورت ہے اقوام متحدہ سلامتی کونسل نے قطر کےساتھ اظہاریکجہتی کیا ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں غزہ میں اسیران کی رہائی اولین ترجیح ہونی چاہیے غزہ میں جنگ اور عوامی مصائب کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ قطر کا کردار اقوام متحدہ چارٹر کے اصولوں کے مطابق اہم ہے قطر خطے میں ثالثی کےلیے اہم کردار ادا کر رہا ہے قطر، مصر اور امریکا ساتھ مل کر ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں









