Light
Dark

یوکرین کے حملوں کے باعث روس کی ریفائننگ صلاحیت کو شدید دھچکا

یوکرین کے حملوں کے باعث روس کی ریفائننگ صلاحیت کو بڑا دھچکا لگا ہے، ریفائننگ صلاحیت پانچویں حصے تک گرگئی۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ یوکرین نے 28 اگست کو بحیرہ اسود میں روسی جہاز بویان ایم کو ڈرون سے نشانہ بنایا، یوکرین کی جانب سے روس کی سامارا اورکراسنوڈار ریفائنریوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، حملوں نے روس کی ریفائننگ صلاحیت کو اچھا خاصہ نقصانا پہنچایا ہے۔
رپورٹس کے مطابق روس گاہک بچانے کیلئے خام تیل رعایت پر بیچنے پر مجبور ہے، حالیہ عرصے میں روس سے تیل خریدنے پر صدر ٹرمپ بھارت پر بھی بھاری ٹیرف عائد کرچکے ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ روس کی جانب سے بھی یوکرین کے دارالحکومت کیف پر حملے جاری ہیں، یوکرینی حکام کا دعویٰ ہے کہ روس ممکنہ طور پر پوکروفسک شہر پر دوبارہ حملے کی تیاری کررہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوکرین صدر نے روس پر حملے کا منصوبہ بتا دیا
دوسری جانب روسی فوج کا دعویٰ ہے کہ مارچ سے اب تک یوکرین کے 3500 مربع کلومیٹر علاقہ اور 149 علاقے قبضے میں لیے ہیں۔
تاہم امریکی تھنک ٹینک آئی ایس ڈبلیو نے روسی دعوے مسترد کردیے ہیں، آئی ایس ڈبلیو کے مطابق روسی قبضے کا اصل علاقہ 2346 مربع کلومیٹر اور 130 بستیاں ہیں، جولائی میں روس نے صرف 445 اور اگست میں 500 کلومیٹر پر قبضہ کیا ہے۔
خبرایجنسی نے بتایا کہ روسی وزیردفاع کا دعویٰ ہے کہ رواں سال ماہانہ 600 سے 700 کلومیٹرعلاقہ قبضے میں لیا گیا، یوکرین کے ڈس انفارمیشن سینٹر کے سربراہ نے بھی روسی دعویٰ مسترد کردی