لاہور : چیئرمین پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ ملتان میں 48 گھنٹوں تک خطرہ برقرار رہے گا ، آئندہ 12 سے 18 گھنٹے میں پونے 6 لاکھ کیوسک کا ریلہ ملتان پہنچے گا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب میں سیلابی صورتحال تاحال بہتر نہیں ہوئی اور ملتان گزشتہ 48 گھنٹے سے شدید دباؤ میں ہے اور آئندہ 48 گھنٹے تک ملتان کے مقام پر یہ دباؤ برقرار رہے گا۔
چیئرمین پی ڈی ایم اے پنجاب نے بتایا کہ دریائے چناب کا بڑا ریلہ تریموں سے ہوتا ہوا ملتان میں داخل ہوا ہے جبکہ پونے 6 لاکھ کیوسک کا مزید ریلہ ملتان کی طرف بڑھ رہا ہے جو آئندہ 12 سے 18 گھنٹوں میں پہنچنے کا امکان ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جلال پور پیروالہ اس وقت بدترین طور پر متاثر ہے، جہاں چناب، راوی اور ستلج کے پانی نے صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے۔
چیئرمین پی ڈی ایم اے کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بیک وقت تین دریاؤں میں سپرفلڈ کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ “کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ سیلاب میں اتنے سارے بند توڑنے پڑے ہوں۔”
عرفان علی کاٹھیا نے تاریخی اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ 1955 کے بعد پہلی بار خانکی اور قادرآباد پر 10 لاکھ 77 ہزار کیوسک کا ریلہ آیا، جبکہ 1988 کے بعد دریائے راوی میں 3 لاکھ سے زائد کیوسک کا ریلہ آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بار مون سون غیرمعمولی رہا اور بہت زیادہ بارشیں ہوئیں، بھارت میں بھی شدید بارشوں کے باعث تمام ڈیمز بھر گئے، تاہم بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے مطابق پاکستان کو سیلاب کی پیشگی اطلاع نہیں دی، 26 اگست کو بھارت سے 6 سے 8 گھنٹے کے اندر 9 لاکھ 17 ہزار کیوسک کا ریلہ پاکستان میں داخل ہوا۔









