کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے “شعبہ تفتیش میں اصلاحات اور اس تناظر میں آئی جی سندھ کی ہدایات پر عمل درآمد” کے حوالے سے منعقدہ پروگرام میں شرکت کی۔ تقریب میں ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو، کراچی کے زونل افسران، اور تمام انویسٹیگیشن افسران و اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔
اہم نکات:
- ایڈیشنل آئی جی کراچی نے آئی جی سندھ کو “فشل ریکاگنیشن برانچ” اور کرائم سین یونٹ کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔
- انویسٹی گیشن افسران کے لیے یکم اکتوبر سے ایک اضافی بنیادی تنخواہ فعال ہوگئی ہے۔
- ڈی ایس پیز اور ایس آئی اوز کو براہ راست فنڈنگ فراہم کی گئی ہے تاکہ ان کی استعداد کار میں اضافہ ہو سکے۔
- حکومت سندھ نے 3562 تفتیشی افسران کو یہ سہولیات فراہم کی ہیں، جس کے تحت تمام ڈی ایس پیز اور ایس آئی اوز کے کاسٹ سینٹرز بن چکے ہیں۔
- 28 کروڑ 46 لاکھ روپے کی فنڈنگ تھانہ جات کے تفتیشی افسران کو براہ راست منتقل کی گئی ہے۔
آئی جی سندھ کے خیالات: غلام نبی میمن نے کہا کہ “شعبہ تفتیش محکمہ پولیس کی شناخت ہے” اور یہ کہ “ہمارا ایک ہی آپشن ہے، کہ ہمیں اچھی انویسٹیگیشن اور اچھا انویسٹیگیٹر بننا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ انویسٹیگیشن کی استعداد کو بڑھانا ضروری ہے اور “ہمارا کرائم سین یونٹ بہترین کام کر رہا ہے۔”
ایڈیشنل آئی جی کراچی کا بیان: جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ “پولیس کا کام امن و امان کے حالات پر کنٹرول کرنا ہے” اور شہری ہر مشکل وقت میں پولیس کی جانب دیکھتے ہیں۔
مستقبل کی رہنمائی: آئی جی سندھ نے انویسٹیگیشن برانچ کو زیادہ سے زیادہ وسائل کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا اور انویسٹیگیشن سے وابستہ افسران کو محکمانہ کورسز میں شرکت کی ترغیب دی تاکہ وہ اپنے شعبے میں بہترین بن سکیں۔
یہ پروگرام اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ سندھ پولیس اپنے تفتیشی شعبے میں بہتری کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے، تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔