عمر گزرے گی امتحان میں کیا
داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
اردو ادب کے ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور جون ایلیا کی 23ویں برسی آج منائی جارہی ہے 14 دسمبر 1931ء کو بھارت کے شہر امروہہ میں پیدا ہونے والے جون ایلیا کو انگریزی، عربی اور فارسی زبان پر مکمل عبور حاصل تھا
وہ نہ صرف شاعر بلکہ نثر نگار بھی تھے اور اپنے منفرد انداز اور غیر روایتی خیالات کی وجہ سے انہیں ادبی دنیا کا باغی اور روایت شکن کہا جاتا ہے۔
ان کی معروف تصانیف میں شاید، گویا، یعنی گمان، لیکن اور دیگر قابل ذکر ہیں۔ جون ایلیا کا پہلا شاعری مجموعہ ’شاید‘ کے نام سے 1991ء میں شائع ہوا جس کو اردو ادب کا دیباچہ قرار دیا گیا ہے اردو ادب سے گہری دوستی رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جون اپنی منفرد شاعری میں اکیلا تھا، انہوں نے اپنی زندگی میں پچاس ہزار سے زائد اشعار کہے اور 60 سے زائد نایاب کتابوں کے ترجمے بھی کئے۔ جان ایلیا کو معاشرے سے ہمیشہ یہ شکوہ رہا کہ شاعر کو اس کی زندگی میں وہ عزت و توقیر نہیں دی جاتی جس کا وہ حقدار ہے، زمانے میں الگ شناخت رکھنے والے جون ایلیا 8 نومبر 2002ء کو اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔
آج ہم ممتاز شاعر جون ایلیا کو خراج عقیدت پیش کر تے ہیں۔









