بشیر سدوزئی
زہران ممدانی کی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر کے طور پر کامیابی یقیناً ایک تاریخی واقعہ ہے۔ یہ جیت ایک ایسے دور میں ہوئی ہے جب دنیا بھر میں اسلاموفوبیا اور امیگریشن کے حوالے سے نفرت انگیز بیانیے عام ہو چکے ہیں، وہی بیانیے جو دراصل ٹرمپ کی ایجاد ہیں۔ اقوامِ متحدہ میں ٹرمپ کی اس سال کی تقریر ایک عالمی رہنما کی نہیں بلکہ کسی متعصب پوپ کی تقریر معلوم ہوتی تھی جو یورپی حکمرانوں کو نصیحت کر رہا تھا کہ وہ ایشیائی اور غیر یورپی نسلوں کو پناہ دے کر اپنی ’’نسلی و ثقافتی پاکیزگی‘‘ کیوں برباد کر رہے ہیں۔ مگر اب ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے ہی گھر میں چیلنج کا سامنا ہے۔ نیویارک کے عوام نے اس کے خلاف ایک ایسے شخص کو چُنا ہے جو صرف سیاسی نہیں بلکہ فکری اور اخلاقی لحاظ سے بھی ایک متبادل بیانیہ رکھتا ہے۔ 34 سالہ زہران ممدانی نے ابھی نیویارک شہر کا چارج تو نہیں سنبھالا، تاہم اپنی وکٹری تقریر میں وہ سب کچھ کہہ دیا جو ٹرمپ سننے کا عادی نہیں تھا۔ زہران ممدانی پہلی ہی تقریر میں نوجوان مدبر، مفکر اور عوامی رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آیا۔ پوری دنیا نے اس کی تقریر کو توجہ سے سنا، خاص طور پر تیسری دنیا کے نوجوانوں نے، جو ٹرمپ فلاسفی سے مایوس تھے۔ جہاں زہران نے نیویارک کے مزدوروں، ٹیکسی ڈرائیوروں، نرسوں، یہودیوں اور ایک ملین مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ: “یکم جنوری 2026ء سے نیویارک ایک نئے سیاسی سفر کا آغاز کرے گا، ایک ایسا شہر جو تارکینِ وطن کے خلاف نفرت، مزدوروں کے ساتھ امتیاز، اور اسلاموفوبیا سے پاک ہو گا۔” زہران ممدانی نے اپنی تقریر میں ٹرمپ کو بار بار للکارا اور نیویارک کے شہریوں سے کہا کہ اب گھبرانے کی ضرورت نہیں، “نیویارک ہم سب کا ہے اور ہم کونسل میں داخل ہو چکے ہیں، اب نیویارک کے فیصلے ہم کریں گے ”۔ انہوں نے کرایہ داروں کو خاص مخاطب کیا اور کہا کہ نیویارک ہمارا ہے تو اب یہ گھر بھی ہمارا ہی ہو گا۔۔ اسی لیے ان کی جیت کو صرف ایک سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ایک سماجی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، ایک ایسے شخص کی جیت جو مسلمان ہونے پر فخر کرتا ہے اور علانیہ اس کا اظہار بھی کرتا ہے۔ تجزیہ کار اس بات پر حیران ہیں کہ امریکن معاشرے نے کتنی جلدی کروٹ بدلی کہ ابھی ٹرمپ کو ایک سال بھی نہیں ہوا کہ اس کی پالیسیوں اور سوچ کو مسترد کر دیا۔ زہران کی کامیابی ایک تارکِ وطن خاندان کے فرزند اور ایک اقلیت کے نمائندے کی جیت ہے جن کے خلاف ٹرمپ نے سخت مہم چلائی ہوئی ہے ۔ یقیناً نیویارک کے دس لاکھ مسلمانوں کے لیے یہ خوشی کا لمحہ ہے کہ اس دور میں کوئی ایسا بھی ہے جو ان کو گڑھ نہ سہی، گڑھ جیسی بات تو کرتا ہے۔ تاہم کشمیریوں کے لیے یہ لمحہ خوشی سے زیادہ افسوس کا باعث بنا، جب زہران ممدانی نے اپنی وکٹری تقریر میں پنڈت جواہر لال نہرو کا حوالہ دیا ایک ایسا حوالہ جو تاریخی فہم سے عاری، سیاسی طور پر غیر حساس، اور اخلاقی طور پر گمراہ کن تھا۔ نہرو کو جمہوریت کا علم بردار کہنا تاریخ کے ساتھ وہی زیادتی ہے جو کشمیر کے عوام کے ساتھ دہائیوں سے کی جا رہی ہے۔ نہرو نے بھارت کی پارلیمنٹ، اقوامِ متحدہ، اور خود کشمیری عوام سے وعدہ کیا تھا کہ امن قائم ہوتے ہی بھارتی افواج کو واپس بلا لیا جائے گا اور کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ ایک آزادانہ رائے شماری کے ذریعے کرنے دیا جائے گا۔ یہ وعدہ صرف زبانی نہیں بلکہ باضابطہ طور پر 31 اکتوبر 1947ء کے ان کے ٹیلیگرام میں درج ہے، جہاں انہوں نے کہا تھا: “جب امن و امان بحال ہو جائے گا، ہم کشمیر سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں گے اور ریاست کے عوام پر چھوڑ دیں گے کہ وہ خود فیصلہ کریں۔” یہ وعدہ آج تک وفا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس، کشمیر پر بھارتی تسلط کو مزید گہرا کیا گیا، سیاسی قیادتوں کو قید و بند میں رکھا گیا، اور عوام کے بنیادی حقوق کو مسلسل پامال کیا گیا۔
زہران ممدانی جیسے پڑھے لکھے، باشعور، اور انسانی حقوق کے علم بردار رہنما سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تاریخ کو سطحی حوالوں سے نہیں بلکہ حقیقت کی گہرائی سے دیکھیں گے۔ جب کوئی رہنما تاریخ کو بگاڑتا ہے یا اسے محض جذباتی تاثر کے لیے استعمال کرتا ہے، تو وہ نہ صرف ماضی کے زخم چھیڑتا ہے بلکہ حال میں جاری ناانصافی کو بھی جواز فراہم کرتا ہے۔ کشمیر آج بھی ایک کھلا زخم ہے۔ ہر وہ بیان جو ظلم کو فراموش کرتا ہے یا ظالم کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتا ہے، دراصل مظلوموں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ قیادت کا اصل امتحان جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ تاریخی سچائی کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔ اگر جناب ممدانی واقعی انسانی وقار، آزادی اور جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں، تو انہیں اپنے الفاظ پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے، کیوں کہ نہرو کا حوالہ دینا صرف ایک تاریخی غلطی نہیں بلکہ ان لاکھوں کشمیریوں کے احساسات کی توہین ہے جو سات دہائیوں سے آزادی کے منتظر ہیں۔ لہٰذا نہرو کا حوالہ دینے سے خود زہران ممدانی کی کردار داغدار ہوتا ہے۔ کیوں کہ نہرو کو جمہوریت کی علامت کے طور پر پیش کرنا، اُن کے وعدوں کی خلاف ورزی کو نظرانداز کرتے ہوئے، انصاف کے تصور کے ساتھ بے وفائی ہے۔ زہران ممدانی کے لیے اب اصل چیلنج یہی ہے کہ وہ اپنی شناخت ایک اصولی رہنما کے طور پر قائم کریں۔ وہ رہنما جو صرف جیتنے کے لیے نہیں بلکہ سچ کہنے کے لیے بھی تیار ہو۔ تاہم تمام تر بوجھ زہران پر ڈال کر اپنی کوتاہی، نالائقی اور لاپروائی کو صرف نظر نہیں کر سکتے۔ یہ صرف زہران ممدانی کی ہی نہیں بلکہ نیویارک میں مقیم کشمیریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے ابھرتے ہوئے عالمی رہنماؤں سے رابطے میں رہیں اور انہیں درست تاریخی حقائق سے آگاہ کریں۔ نیویارک میں مقیم اگر معاملہ فہمی سے کام لیتے تو وہ پہلے سے ہی اس نوجوان سے رابطے میں رہتے اور اپنے مسلے کے بارے میں درست معلومات اور آگاہی دے چکے ہوتے تو یقینا اس عالمی تقریر میں نہرو کی جمہوریت کا پردہ چاک ہوتا۔ تاہم ابھی بھی وقت ہے کہ جموں و کشمیر کے ڈائس پورا اس طرح کے نمایاں ہوتے عالمی رہنماؤں سے رابطے میں رہیں اور اپنے مسلے سے ان کو آگاہ رکھیں۔ مجھے یقین ہے کہ زہران ممدانی نیویارک کے میئر ہی نہیں بلکہ آنے والے برسوں میں باراک اوباما کے بعد امریکہ کے دوسرے غیر سفید فام صدر کے طور پر بھی ابھر سکتے ہیں۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممدانی کے لیے رکاوٹ صرف ٹرمپ نہیں بلکہ وہ ارب پتی ڈیموکریٹس بھی ہیں جو اس معجزے پر حیران ہیں۔
ریپبلکن ہوں یا ڈیموکریٹ، دونوں کے لیے ممدانی جیسا شخص ایک چیلنج ہے ایک ایسا رہنما جو سیاست کو سرمایہ دارانہ جکڑ سے آزاد دیکھنا چاہتا ہے۔ واشنگٹن سے بعض ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کو پہلی مرتبہ اس نوجوان سے خوف زدہ دیکھا، جو باصلاحیت بھی ہے اور بولنا اور عوام کو قائل کرنے کا فن بھی جانتا ہے اور اس سے بھی زیادہ نوجوان ہے، ڑمپ کی عمر کے بوڑھے لوگ کب تک اس کا راستہ روک سکتے ہیں۔ زہران ممدانی کی پوری تقریر متاثر کن تھی اور دنیا بھر کے مزدوروں اور مظلوموں کو اس سے بڑی تقویت ملی۔ نیویارک کے عوام نے ان کے ایک ایک لفظ پر تالیاں بجائیں، خاص طور پر جب انہوں نے کہا: “میں مسلمان ہوں، اور اس پر شرمندہ نہیں ہوں۔” انہوں نے اپنی تقریر میں امریکی معاشرے کو جوڑنے کی بات کی، جب کہ ٹرمپ اور اس کی سوچ معاشرے کو توڑنے اور انتشار پھیلانے کی بات کرتے ہیں ۔محکوم قوموں کو، خاص طور پر کشمیریوں کو، ایسے ہی کسی نوجوان قائد کی ضرورت ہے جو پہلے جموں و کشمیر کے عوام کی داخلی تقسیم ختم کرے، اور پھر عالمی برادری کو سمجھائے کہ کشمیر کا مسئلہ دو ملکوں کی انا یا سرحدوں کا نہیں بلکہ ایک قوم کی آزادی، وقار اور عزتِ نفس کا مسئلہ ہے۔ زہران ممدانی جیسے متحرک، باہمت اور بیدار رہنما کی پراثر گفتگو ہی مسئلہ کشمیر پر عالمی ضمیر کو بیدار کر سکتی ہے۔ میں تو پرامید ہوں کہ عالمی سطح پر جلد ہی کوئی کشمیری نوجوان نمودار ہو گا جو الجھے ہوئے مسئلہ کشمیر کو ایک ہی تقریر میں سلجھا دے گا۔









