جدہ: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت دینے کے مجوزہ اسرائیلی قانون کی شدید مذمت کی ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق او آئی سی نے اعلامیہ جاری کرتے ہوئے اس قانون کو باطل اور نسلی امتیاز پر مبنی قرار دیا۔
رپورٹس کے مطابق تنظیم نے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی انسانی قانون، جنگی قیدیوں کے ساتھ برتاؤ سے متعلق جنیوا کنونشن اور اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
تنظیم نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اسرائیلی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے اقدامات کرے اور فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کرے۔
دوسری جانب حماس نے گزشتہ روز ایک اور اسرائیلی قیدی کی لاش انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے ذریعے اسرائیلی حکام کے حوالے کردی۔
حماس کی عسکری قیادت القسام بریگیڈز نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک اسرائیلی قیدی کی لاش بین الاقوامی ریڈ کراس کے حوالے کر دی ہے۔ یہ اقدام غزہ میں جاری جنگ بندی کے فریم ورک کے تحت کیا گیا ہے۔
قبل ازیں القسام بریگیڈز نے اپنے ”ٹیلیگرام”چینل پر کہا تھا کہ وہ غزہ شہر کے مشرق میں الشجاعیہ کے علاقے میں ملنے والے ایک یرغمالی کی لاش اسرائیل کے حوالے کردیا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے اس کی تصدیق کی گئی ہے، اب بھی چھ مزید اسرائیلی قیدیوں کی لاشیں غزہ میں موجود ہیں۔
جنگ بندی کے تحت واپس کی گئی لاشوں کی تعداد 22 ہو گئی، بدلے میں اسرائیل نے 15 فلسطینیوں کی لاشیں واپس بھیج دیں، بھیجی گئی میتوں کی کُل تعداد 285 ہو گئی۔
غاصب اسرائیل کا فلسطینیوں کی زمین پر قبضے کا نیا منصوبہ
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل نے واضح کیا ہے کہ جب تک تمام لاشیں واپس نہیں کی جاتیں، وہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل کے وعدے پر عمل نہیں کرے گا۔
اسرائیل کی جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے مرکزی غزہ میں دو مختلف مقامات پر 2 فلسطینی کو شہید اور متعدد کو زخمی کردیا۔









