Light
Dark

27ویں آئینی ترمیم 7 نومبر کو سینیٹ میں پیش ہونے کا امکان

اسلام آباد: 27ویں آئینی ترمیم 7 نومبر کو سینیٹ میں پیش ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق آئینی ترمیم پر دونوں ایوانوں میں بحث بھی کرائی جائے گی جس کے بعد 10 نومبر کو منظوری  کیلئے رائے شماری کا امکان ہے۔
سینیٹ کا اجلاس چھٹی کے روز بھی جاری رہےگا۔
مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر جمعہ اور ہفتہ کے روز بحث کرائی جائے گی اور آئینی ترمیم پیش ہونے کے بعد متعلقہ کمیٹی کو بھجوائی جائےگی۔ سینیٹ کا اجلاس 14نومبر تک جاری رہے گا۔
قومی اسمبلی میں27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے نمبر گیم سامنے آگیا ہے ، ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 125 ہے تاہم اگر پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دیتے ہیں تو مجموعی طور پر 237 ووٹ ہو جائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے ارکان کی تعداد 125 ہے، جب کہ اتحادی جماعتوں میں ایم کیو ایم پاکستان کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5، استحکام پاکستان پارٹی کے 4، اور مسلم لیگ ضیا، نیشنل پارٹی اور باپ پارٹی کے تین ارکان شامل ہیں۔
اس کے علاوہ چار آزاد ارکان بھی حکومت کے ساتھ ہیں، یوں حکومتی اتحاد کے ووٹوں کی کل تعداد 163 بنتی ہے۔
پارلیمانی اعداد و شمار کے مطابق پیپلز پارٹی کے پاس 74 نشستیں ہیں، اور اگر جیالے حکومت کا ساتھ دیتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے پاس مجموعی طور پر 237 ووٹ ہو جائیں گے، جو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے درکار 224 ووٹوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
قومی اسمبلی میں اس وقت اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 89 ہے، جن میں جے یو آئی (ف) کے 10، بی این پی، ایم ڈبلیو ایم اور پی کے میپ کے ایک ایک رکن شامل ہیں۔
دوسری جانب سینیٹ میں دو تہائی اکثریت کے لیے حکومت کو 64 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ حکومتی اتحاد کے ارکان کی کل تعداد 61 ہے، جب کہ اپوزیشن کے 35 سینیٹرز ایوان بالا میں موجود ہیں۔
سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے 26، مسلم لیگ (ن) کے 20، باپ پارٹی کے 4، ایم کیو ایم کے 3، ق لیگ اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک سینیٹر ہیں، جب کہ حکومت کے حمایت یافتہ آزاد اراکین کی تعداد 6 ہے