Light
Dark

سوڈان کے ٹکڑے ہونے کا خدشہ بڑھ گیا

خانہ جنگی اور قتل عام کے بعد سوڈان کے ٹکڑے ہونے کا خدشہ بڑھ گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق الفاشر کے بعد آرایس ایف نے دارفور کے تمام 5صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے جس سے سوڈان میں تقسیم کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
آر ایس ایف مغربی و جنوبی علاقوں پر قابض ہے جب کہ فوج شمال و مشرقی خطے میں موجود ہے۔ آرایس ایف نے الفاشر پر قبضے کے بعد وسطی کوردفان پر حملےکی تیاری شروع کر دی ہے۔
انٹرنیشنل کرمنل کورٹ نے بھی سوڈان میں مظالم پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے سوڈان میں تشدد فوری بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحران تیزی سے بےقابو ہوتا جا رہا ہے۔
الفاشر 2سال سے زیادہ جاری خانہ جنگی کے دوران سوڈانی فوج کا آخری مضبوط گڑھ تھا۔ 26اکتوبر کو آرایس ایف کے قبضے کے بعد شہر میں خوفناک قتل وغارت شروع ہوئی۔
سوڈانی فوج نے خونریزی روکنے کےلیے ہتھیار ڈالنے اور محفوظ انخلا پر رضامندی ظاہر کی۔ 2 لاکھ 50 شہری آر ایس ایف کے رحم وکرم پر چھوڑ دیئے گئے جب کہ خوراک و پانی کی شدید قلت ہے۔
سوڈان کے شہر الفاشر میں آر ایس ایف کےہاتھوں قتل عام جاری ہے جس میں 1500 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا جاچکا ہے۔
سوڈانی وزیر مملکت برائے سماجی بہبود، سلمیٰ اسحاق نے انادولو ایجنسی سے گفتگو میں انکشاف کیا کہ مغربی سوڈان میں شمالی دارفر ریاست کے دارالحکومت الفشر میں داخل ہونے کے بعد پہلے دو دنوں میں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نے 300 خواتین کو ہلاک کیا۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایف نے الفاشر میں داخل ہونے کے پہلے دو دنوں کے دوران 300 خواتین کو قتل کیا اور یہ متاثرہ خواتین “جنسی حملوں اور تشدد نشانہ بنی تھیں۔