مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ان کا صوبہ 85 فیصد وفاقی آمدنی سے چلتا ہے۔
مریم نواز اور پی پی کے درمیان زبانی الزام تراشی اور متنازع بیانات کا سلسلہ اب ن لیگ اور پی پی کے ساتھ پی ٹی آئی تک پھیل گیا ہے اور خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ نے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کے بیان پر جوابی وار کرتے ہوئے ردعمل ظاہر کیا ہے۔
مشیر خزانہ کے پی مزمل اسلم نے کہا ہے کہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری بہت پریشر میں ہیں اور انہیں اتنا بھی نہیں پتہ کہ ان کا صوبہ 85 فیصد وفاق آمدنی سے چلتا ہے۔ ہماری نظر میں تو پنجاب ڈیفالٹ کر چکا ہے۔
مزمل اسلم کا کہنا تھا کہ ملک میں سب سے زیادہ غریب لوگ بھی پنجاب میں ہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ 46 لاکھ لوگ پنجاب میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید ہو رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز کو خود داری دکھانی ہے تو اپنے وسائل سے 46 لاکھ سیلاب متاثرین کو معاوضہ ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب واقعی ترقی یافتہ صوبہ ہوتا تو وفاق سے پیسہ لینے کے بجائے اُلٹا وفاق کو آپ آمدنی دیتا۔ خیبر پختونخواہ کے وفاق پر 2500 ارب کے واجبات بھی پنجاب کی وجہ سے ہیں۔ اگر پنجاب اپنی سستی بجلی اور گیس پر کام کرتا تو وفاق اتنا مجبور نہ ہوتا۔
مشیر خزانہ کے پی کا یہ بھی کہنا تھا کہ پنجاب حکومت اپنے وسائل سے مری ایکسپریس وے بھی نہیں بنا سکتی۔ یہ بھی وفاق کے پیسوں سے این ایچ اے کے ذریعہ بنوائی۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تو حالات یہ ہیں کہ مری کو پانی تک نہیں دے سکے، یہ بھی خیبر پختونخوا سے لیتے ہیں۔ مری کے پانی کی مد میں 64 ارب روپے پنجاب کے ذمہ واجب الادا ہیں۔
واضح رہے کہ وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے آج اپنے بیان میں خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ عظمیٰ بخاری نے کہا تھا کہ جس کو دیکھو وہ منہ اٹھا کر پنجاب پر انگلی اٹھانے آ جاتا ہے، انہیں اپنے صوبوں کی خبر نہیں ہے









