ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نظریاتی طور پر ہٹلر کا قریبی رشتےدار ہے۔
صدر اردوان نے گذشتہ ہفتے قطر میں حماس کی مذاکراتی ٹیم پر اسرائیل کے حملے پر اسرائیلی وزیر اعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ “نظریاتی طور پر نیتن یاہو ہٹلر کے رشتہ دار کی طرح ہیں”۔
اروان اس سے قبل نیتن یاہو کا ہٹلر سے موازنہ کر چکے ہیں اور اسرائیلی حکومت کو “قتل کا نیٹ ورک” کہہ چکے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں “فرنٹ آف انسانیت” فلسطین کے لیے وسیع تر حمایت حاصل کرے گا۔
قطر میں ایک ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے بعد واپسی پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، اروان نے فلسطینی ریاست کا مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دوبارہ اٹھانے کا وعدہ کیا۔
دوحا میں عرب اسلامی کے ہنگامی سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے کہا کہ اسرائیل پر معاشی دباؤ ڈالنا ہو گا ماضی نے ثابت کیا دباؤ مؤثر ہوتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عرب اور اسلامی دنیا کو ترقی کے شعبوں میں خودکفیل ہونا ہو گا اور ترقی کے متعدد شعبوں میں تعاون کو تیز کرنا ہو گا، ساتھ ہی اسلامی ممالک میں مشترکہ تعاون کے میکنزم قائم کرنےکی ضرورت ہے۔
ترک صدر نے واضح کیا کہ بڑھتی ہوئی اسرائیلی جارحیت براہ راست خطے کیلئے خطرہ ہے اسرائیلی جارحیت اب قطر تک پہنچ گئی ہے جو امن کیلئے ثالثی کر رہا تھا امید ہے آج کے فیصلے دنیا کو واضح پیغام دینے والی تحریری قرارداد بنیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو حکومت فلسطینی عوام کا قتل عام جاری رکھنا چاہتی ہے اور خطے کو انتشار اور افراتفری میں دھکیلنا چاہتی ہے، اسرائیلی سیاستدان اب بھی گریٹر اسرائیل کے فریب دہ تصورات دہرا رہے ہیں اسرائیلی حکام کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا، عالمی قانونی طریقہ کار کے تحت اسرائیلی قیادت کا احتساب ضروری ہے۔









