ممبئی (11 ستمبر 2025): نام، تصاویر اور شخصیات کے غیر قانونی استعمال کے معاملے پر بالی وڈ کی معروف اداکارہ ایشوریا رائے کو عدالت سے ریلیف مل گیا۔
انڈین میڈیا کے مطابق ایشوریا رائے کو دہلی ہائیکورٹ نے نام، تصاویر، فوٹوگرافس اور شخصیت کے غیر قانونی استعمال کے معاملے میں عبوری ریلیف دیا جو کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کمرشل پروڈکٹس پر ہو رہا تھا۔
دہلی ہائیکورٹ کے جسٹس تیجس کاریا نے پلیٹ فارمز، بشمول ای-کامرس ویب سائٹس اور گوگل کو ہدایت دی کہ وہ درخواست میں دیے گئے یو آر ایلز کو ہٹائئ یا بلاک کرے۔
عدالت نے حکم دیا کہ گوگل 72 گھنٹوں کے اندر نوٹس ملنے کے بعد یو آر ایلز کو ہٹائے، غیر فعال کرے اور بلاک کرے۔
وزارت الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ڈپارٹمنٹ آف ٹیلی کمیونیکیشنز کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ تمام یو آر ایلز کو بلاک اور غیر فعال کرنے کیلیے ضروری احکامات جاری کرے۔
کیس کی مزید سماعت 15 جنوری 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ جب کسی مشہور شخصیت کی شناخت کو ان کی رضامندی یا اجازت کے بغیر استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف مالی نقصان ہو سکتا ہے بلکہ ان کی ساکھ بھی متاثر ہوتی ہے۔
دہلی ہائیکورٹ نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایشوریا رائے نے ایک مضبوط کیس دائر کیا ہے، مدعی کے نام، تصاویر اور شخصیت کا غلط استعمال واضح طور پر حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت نے یہ بھی ریماکس دیے کہ یہ واضح ہے ایشوریا رائے کا نام اور تصاویر مصنوعی ذہانت سمیت تکنیکی آلات کے ذریعے غلط استعمال کیے گئے، اس غلط استعمال سے نہ صرف مدعی کو مالی نقصان ہو رہا ہے بلکہ ان کی عزت اور شہرت کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔









