ترجمان سندھ حکومت و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ میں آئندہ دنوں میں تقریباً 8 لاکھ کیوسک کے ریلے کی توقع ہے جبکہ 9 لاکھ کیوسک سے زائد کے امکان کے پیش نظر سکھر ڈویژن میں ہنگامی انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ سکھر بیراج کی گنجائش 9.60 لاکھ کیوسک اور گڈو بیراج کی کیپسٹی 12 لاکھ کیوسک ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سپر فلڈ کی صورتحال پیدا ہوئی تو سندھ میں 16 لاکھ افراد، 379 دیہات، 5 لاکھ مویشی اور ڈھائی لاکھ ایکڑ فصلیں متاثر ہوسکتی ہیں، جن کیلئے 948 ریلیف کیمپس قائم کردیئے گئے ہیں، تاہم مثبت پہلو یہ ہے کہ پانی وقفوں سے آئے گا جس سے صورتحال کو بہتر انداز میں کنٹرول کیا جا سکے گا۔ پیشگی تیاری ہماری خوش قسمتی ہے، حکومت سندھ کی اولین ترجیح عوام کی جان و مال کا تحفظ ہے اور ہم کسی بھی صورتحال کے لئے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ساتھ ہی دیگر صوبوں کے متاثرین کیلئے دعا گو ہیں اور سندھ حکومت پریشانی کی اس گھڑی میں انکے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال اور اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔
ترجمان سندھ حکومت نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ڈویژن میں 155 ریلیف کیمپس، 24 میڈیکل اور 27 لائیو اسٹاک کیمپس فعال ہیں جہاں جی پی ایس لوکیشنز، ڈاکٹرز، ادویات، خیمے، خوراک اور مویشیوں کے لیے علیحدہ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ DEOC سے رابطہ کریں۔









